Home-header-logo

Finance Division Notification 2026: PPS, MPS, SPPS & Contractual Positions Policy

Finance Division Pakistan Notification 2026 on PPS MPS SPPS and Contractual Positions
Official Finance Division Office Memorandum - 07 September 2026
حکومتِ پاکستان | وزارتِ خزانہ

خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکٹ آسامیوں پر تعیناتی سے متعلق اہم آفس میمورنڈم

وفاقی ملازمین کے لیے پالیسی میں ترمیم اور ڈیپوٹیشن سے متعلق وضاحت

جاری کردہ: 7 ستمبر 2026

حکومتِ پاکستان کی وزارتِ خزانہ نے خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکٹ آسامیوں پر تعیناتی کے حوالے سے ایک اہم آفس میمورنڈم جاری کیا ہے۔ اس میمورنڈم کے ذریعے پہلے سے موجود پالیسی میں جزوی ترمیم کرتے ہوئے کنٹریکٹ آسامیوں کو بھی متعلقہ پالیسی کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت بالخصوص ان سرکاری ملازمین کے لیے اہمیت رکھتی ہے جو اوپن کمپیٹیٹو پراسیس کے ذریعے سرکاری اداروں، خودمختار اداروں، سرکاری ملکیت کے اداروں یا دیگر متعلقہ تنظیموں میں خصوصی پے اسکیلز یا کنٹریکٹ بنیادوں پر موجود آسامیوں پر تعیناتی کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔

نوٹیفکیشن کی بنیادی معلومات
تاریخ: 07-09-2026 وزارتِ خزانہ آفس میمورنڈم نمبر: F.NO.4(9)R-14/2024-0001

موضوع: خصوصی پے اسکیلز (PPS، SPPS، MPS) اور کنٹریکٹ آسامیوں پر سرکاری ملازمین کی تعیناتی۔

1۔ آفس میمورنڈم میں کیا ترمیم کی گئی ہے؟

وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ میمورنڈم یکم جولائی 2025 کو جاری کردہ آفس میمورنڈم نمبر 4(9)R-14/2024 میں جزوی ترمیم کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔

پہلے سے موجود پالیسی میں مینجمنٹ پوزیشن پے اسکیلز (MPS)، پراجیکٹ پے اسکیلز (PPS) اور اسپیشل پروفیشنل پے اسکیلز (SPPS) شامل تھے۔ نئی ترمیم کے ذریعے کنٹریکٹ آسامیوں کو بھی اسی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اصل میمورنڈم کی شق 3 کے ذیلی پیراگراف (i) اور (iii) کو تبدیل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ دستیاب دستاویز میں پیراگراف (i) کی ترمیم شدہ عبارت درج ہے، جس کی تفصیل ذیل میں بیان کی جا رہی ہے۔

2۔ اوپن کمپیٹیٹو پراسیس کے ذریعے تعیناتی

میمورنڈم کی ترمیم شدہ شق کے مطابق، اگر کوئی سول سرونٹ اوپن کمپیٹیٹو پراسیس کے ذریعے درج ذیل نوعیت کے اداروں میں متعلقہ آسامی کے لیے منتخب ہوتا ہے تو اسے مقررہ شرائط کے تحت نئی تعیناتی اختیار کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے:

  • حکومت کی ملکیت میں موجود کارپوریشنز؛
  • اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (SOEs)؛
  • خودمختار سرکاری ادارے (Autonomous Bodies)؛
  • اسی نوعیت کی دیگر متعلقہ تنظیمیں؛
  • خصوصی پے اسکیلز یا متعلقہ کنٹریکٹ آسامیوں پر مشتمل عہدے، جو پالیسی کے دائرے میں آتے ہوں۔

اس صورت میں متعلقہ سول سرونٹ کو نئی تعیناتی اختیار کرنے کی اجازت ڈیپوٹیشن پالیسی میں مقررہ شرائط کے مطابق دی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملازم کو بلاشرط نئی آسامی پر تعیناتی کا خودکار حق حاصل ہو گیا ہے۔

3۔ ڈیپوٹیشن پالیسی کے تحت کیا سہولت ہوگی؟

میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ سول سرونٹ کو ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے طور پر تصور کیا جائے گا اور اس پر ڈیپوٹیشن پالیسی کی قابلِ اطلاق شرائط لاگو ہوں گی، الا یہ کہ میمورنڈم میں کسی معاملے کے لیے مختلف شرط مقرر کی گئی ہو۔

اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے آفس میمورنڈم نمبر 1/13/87-R-I مورخہ 3 دسمبر 1990 کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں وقتاً فوقتاً ترامیم کی گئی ہیں۔

آسان الفاظ میں:

متعلقہ آسامی پر منتخب ہونے والے ملازم کی نئی تعیناتی کو مقررہ شرائط کے تحت ڈیپوٹیشن تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے متعلقہ محکمے، مجاز اتھارٹی اور ڈیپوٹیشن پالیسی کی شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔

4۔ سرکاری ملکیت کے اداروں سے کیا مراد ہے؟

میمورنڈم میں سرکاری ملکیت (Government-Owned) کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ اس سے مراد ایسے ادارے ہیں جن میں حکومت کی اکثریتی ملکیت ہو اور انتظامی امور پر حکومت کو کنٹرول یا انتظامی حقوق حاصل ہوں۔

اس تعریف کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ پالیسی کے اطلاق کے لیے صرف ادارے کا نام یا نوعیت کافی نہیں، بلکہ اس کی ملکیت اور انتظامی حقوق کی حیثیت بھی اہم ہو سکتی ہے۔

5۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے متعلق اہم وضاحت

آفس میمورنڈم میں لفظ Government کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ اس میں بیان کردہ شرائط کا اطلاق پاکستان کی وفاقی حکومت کے ان سول سرونٹس پر بتایا گیا ہے جو وفاقی حکومت یا صوبائی حکومتوں کے اندر خصوصی پے اسکیلز یا کنٹریکٹ آسامیوں پر تعیناتی کے لیے جاتے ہیں۔

اہم قانونی نکتہ: اس عبارت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جانا چاہیے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام ملازمین پر یکساں طور پر یہ پالیسی خودبخود لاگو ہو گئی ہے۔ دستاویز میں واضح طور پر وفاقی حکومت کے سول سرونٹس کا ذکر موجود ہے۔ گلگت بلتستان سمیت کسی مخصوص انتظامی علاقے میں اس کے اطلاق کے لیے متعلقہ سروس قواعد، مقامی احکامات اور مجاز اتھارٹی کی وضاحت دیکھنا ضروری ہوگا۔

6۔ کنٹریکٹ آسامیوں کی شمولیت کی اہمیت

کنٹریکٹ آسامیوں کو پالیسی میں شامل کرنا اس میمورنڈم کی نمایاں تبدیلی ہے۔ اس سے خصوصی پے اسکیلز کے ساتھ کنٹریکٹ بنیادوں پر مشتمل متعلقہ آسامیوں کو بھی پالیسی کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔

تاہم، کسی آسامی کو پالیسی میں شامل کرنے اور کسی ملازم کو اس آسامی پر تعیناتی کی اجازت ملنے میں فرق ہے۔ ہر معاملے میں آسامی کی نوعیت، انتخاب کا طریقہ، ملازم کی سروس حیثیت اور متعلقہ قواعد کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

7۔ ملازمین کے لیے اہم نکات

موضوع وضاحت
پالیسی میں تبدیلی متعلقہ پالیسی میں کنٹریکٹ آسامیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
انتخاب کا طریقہ میمورنڈم میں اوپن کمپیٹیٹو پراسیس کے ذریعے انتخاب کا ذکر ہے۔
ڈیپوٹیشن تعیناتی کو قابلِ اطلاق ڈیپوٹیشن پالیسی کی شرائط کے تحت تصور کیا جا سکتا ہے۔
سرکاری ادارے سرکاری ملکیت، اکثریتی حصص اور انتظامی حقوق کی تعریف اہم ہے۔
اطلاق کی حدود وفاقی سول سرونٹس اور متعلقہ وفاقی یا صوبائی آسامیوں کے حوالے سے عبارت کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
خودکار حق یہ میمورنڈم بذاتِ خود ہر ملازم کی تعیناتی، مستقلی یا ترقی کی ضمانت نہیں دیتا۔

8۔ کیا اس میمورنڈم سے مستقلی یا ترقی کا حق ملتا ہے؟

نہیں۔ دستیاب میمورنڈم کی عبارت میں کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، مستقل سروس میں خودکار شمولیت، ترقی یا تنخواہ میں لازمی اضافے کا کوئی عمومی حکم درج نہیں ہے۔

اس دستاویز کا بنیادی موضوع مخصوص پے اسکیلز اور کنٹریکٹ آسامیوں پر تعیناتی کے لیے پالیسی اور ڈیپوٹیشن کے طریقۂ کار سے متعلق ہے۔ لہٰذا ملازمین کو اس کے مفہوم کو کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی یا تمام ملازمین کے لیے نئی مراعات کے نوٹیفکیشن کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

9۔ گلگت بلتستان کے ملازمین کے لیے کیا اہمیت ہے؟

گلگت بلتستان کے سرکاری ملازمین کے لیے اس میمورنڈم کا مطالعہ اس پہلو سے اہم ہے کہ اس میں صوبائی حکومتوں کے اندر متعلقہ آسامیوں کا ذکر موجود ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان میں کسی ملازم کو اس پالیسی کے تحت سہولت حاصل ہونے کا حتمی فیصلہ صرف اس عمومی عبارت کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔

اس مقصد کے لیے متعلقہ سروس قوانین، گلگت بلتستان حکومت کے نافذ العمل احکامات، متعلقہ محکمے کی پوزیشن اور وفاقی وزارتِ خزانہ یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی قابلِ اطلاق ہدایات کی تصدیق ضروری ہوگی۔

اگر کسی ملازم کا معاملہ اس پالیسی کے تحت آتا ہے تو اسے اپنے محکمہ کے ذریعے تحریری وضاحت حاصل کرنی چاہیے، تاکہ ڈیپوٹیشن، سروس کے تسلسل اور دیگر شرائط کے بارے میں ابہام باقی نہ رہے۔

10۔ نوٹیفکیشن کا خلاصہ

  • وزارتِ خزانہ نے یکم جولائی 2025 کی پالیسی میں جزوی ترمیم کی ہے۔
  • متعلقہ پالیسی میں کنٹریکٹ آسامیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
  • اوپن کمپیٹیٹو پراسیس کے ذریعے منتخب ہونے والے سول سرونٹس کے لیے مقررہ شرائط کے تحت تعیناتی اور ڈیپوٹیشن کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔
  • ڈیپوٹیشن پالیسی مورخہ 3 دسمبر 1990 اور اس میں وقتاً فوقتاً ہونے والی ترامیم کا حوالہ دیا گیا ہے۔
  • میمورنڈم کو مستقلی، ترقی یا خودکار مالی فوائد کا عمومی حکم نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • گلگت بلتستان میں اطلاق کے لیے متعلقہ قواعد اور مجاز اتھارٹی سے تصدیق ضروری ہے۔

اصل آفس میمورنڈم

ملازمین سے گزارش ہے کہ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اصل آفس میمورنڈم کا مطالعہ کریں۔ ذیل میں دستیاب دستاویز کی بنیادی تفصیلات درج ہیں۔

جاری کرنے والا ادارہ: حکومتِ پاکستان، وزارتِ خزانہ
میمورنڈم نمبر: F.NO.4(9)R-14/2024-0001
تاریخِ اجرا: 7 ستمبر 2026
موضوع: Appointment of Civil Servants in Special Pay Scales (PPS, SPPS, MPS) / Contractual Position

No comments

Powered by Blogger.