Cadre Change and Seniority Rules: Do You Lose Your Seniority Rank?
![]() |
|
سرکاری نوکری میں دائرہ کار کی تبدیلی: کیا سنیارٹی کا حق مستقل ختم ہو جاتا ہے؟
پاکستان میں سرکاری ملازمت کا حصول ایک طویل جدوجہد کا نتیجہ ہوتا ہے، لیکن سروس کے دوران انتظامی ضروریات یا ذاتی وجوہات کے باعث ملازمین کو اپنے مخصوص دائرہ کار (کیڈر) کی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے موڑ پر ہر سرکاری ملازم کے ذہن میں یہ اہم سوال دستک دیتا ہے: "کیا اپنا سروس گروپ یا شعبہ تبدیل کرنے سے میری پچھلی سنیارٹی متاثر ہوگی؟"
چونکہ اگلی گریڈز میں ترقی کا تمام تر انحصار سینیارٹی لسٹ پر ہوتا ہے، اس لیے اس حساس معاملے کے قوانین کو باریک بینی سے سمجھنا لازم ہے۔ اس تفصیلی گائیڈ میں ہم ملکی سروس قوانین کی روشنی میں اس قانونی مسئلے کا مکمل احاطہ کریں گے۔
ملازمت کے دائرہ کار (کیڈر) کی آئینی تعریف اور اہمیت
آئین اور مروجہ سروس رولز کے مطابق، دائرہ کار یا سروس کیڈر سے مراد ملازمین کی وہ مخصوص افرادی قوت ہوتی ہے جو ایک الگ انتظامی اکائی کے طور پر کام کرتی ہے۔ ایک ہی گروہ سے تعلق رکھنے والے ملازمین:
- یکساں نوعیت کے سرکاری فرائض انجام دیتے ہیں۔
- ملازمت کے اسکیل اور دیگر مراعات میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔
- ان کی ایک الگ باقاعدہ سنیارٹی لسٹ مرتب کی جاتی ہے جس کے مطابق ان کے کیریئر کی ترقی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
بنیادی سروس قوانین: تبدیلیِ دائرہ کار اور سنیارٹی کا موازنہ
پاکستان کے مروجہ سول سرونٹس رولز کے تحت، عام حالات میں ملازمت کا دائرہ کار بدلنے سے پچھلی سنیارٹی لازمی متاثر ہوتی ہے۔
وفاقی حکومت کے وضع کردہ قوانین (سن 1993) اور تمام صوبائی سروس رولز کے تحت، جب بھی کوئی سرکاری ملازم اپنا موجودہ سروس گروپ چھوڑ کر کسی نئے گروہ میں شامل ہوگا، تو اس کے عہدے کے مرتبے پر درج ذیل اثرات مرتب ہوں گے:
الف) ذاتی درخواست یا مرضی کے تحت ہونے والے تبادلے
اگر کوئی سرکاری ملازم اپنے خاندانی حالات، ذاتی سہولت یا باہمی رضامندی کے تحت اپنے دائرہ کار کی تبدیلی کی درخواست کرتا ہے، تو قانون کا فیصلہ بالکل واضح ہے:
- ملازم کی پرانے شعبے کی تمام تر سنیارٹی مستقل طور پر کالعدم تصور کی جائے گی۔
- نئے سروس گروپ میں اس کی سنیارٹی کا باقاعدہ آغاز اس کے پہلے حاضری کے دن سے ہوگا۔
- وہ نئے شعبے کی سنیارٹی لسٹ میں سب سے آخر میں یعنی جونیئر ترین پوزیشن پر فائز کیا جائے گا۔
ب) مفادِ عامہ اور حکومتی احکامات کے تحت ہونے والے تبادلے
اگر حکومت کسی انتظامی ضرورت، محکموں کی ازسرِنو تنظیم، یا کسی مخصوص شعبے کی بندش کی وجہ سے ملازمین کو خود دوسرے دائرہ کار میں منتقل کرتی ہے تو اصول بدل جاتے ہیں:
- ایسی ہنگامی صورتحال میں ملازم کی سابقہ سروس اور سینیارٹی کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
- حکومتی ضرورت کے تحت ہونے والے تبادلوں میں ملازم کی کل مدتِ ملازمت کو بنیاد بنا کر ایک متناسب فارمولا طے کیا جاتا ہے تاکہ ملازم کی حق تلفی نہ ہو۔
دو مختلف محکموں کا باہمی انضمام اور عہدوں کا تعین
انتظامی اصلاحات کے دوران جب حکومت دو مختلف سروس گروپس کو آپس میں ضم کرتی ہے، تو ملازمین کے باہمی مرتبے کا تعین کرنے کے لیے ایک متفقہ قانون اپنایا جاتا ہے:
- سب سے پہلے دونوں گروپس کے ملازمین کی مستقل تقرری کی بنیادی تاریخ کو دیکھا جاتا ہے۔
- جس ملازم کی مستقل تقرری کی تاریخ جتنی پرانی ہوگی، وہ نئی مشترکہ لسٹ میں اتنا ہی سینئر شمار کیا جائے گا۔
- اگر مستقل تقرری کی تاریخ یکساں ہو، تو عمر میں بڑے ملازم یا ابتدائی میرٹ لسٹ میں اول آنے والے کو فوقیت دی جاتی ہے۔

Post a Comment